آڑھت (منڈی کمیشن) کا حساب یوں ہوتا ہے: کل لاٹ قیمت کو کمیشن کی شرح سے ضرب دیں — جو پاکستانی منڈیوں میں عام طور پر 1.5%–2.5% ہوتی ہے۔ کل قیمت = فی من دام × مقدار۔ کچی آڑھت کے رواج میں یہ فیس دیگر کٹوتیوں کے ساتھ کسان کی طرف سے کاٹی جاتی ہے۔

آڑھت کا فارمولا کیا ہے؟

  • کل قیمت = فی من دام × مقدار (من)
  • آڑھت فیس = کل قیمت × آڑھت کی شرح (%)

شرح فصل، پارٹی، منڈی اور سیزن کے مطابق بدلتی ہے، مگر زیادہ تر منڈیوں میں 1.5% سے 2.5% کے درمیان ہوتی ہے۔

ایک عملی مثال (روپے میں)

100 من گندم @ 4,000 روپے فی من:

آئٹمحسابرقم (روپے)
کل قیمت100 × 4,000400,000
آڑھت @ 2%400,000 × 0.028,000

آڑھت کے علاوہ پرچی پر بردانہ، تلائی، مارکیٹ فیس اور کاٹ بھی آتی ہے — دیکھیں منڈی کی تمام کٹوتیاں۔ اپنا حساب آڑھت کیلکولیٹر میں نکالیں۔

آڑھت کون دیتا ہے — کسان یا خریدار؟

کچی آڑھت میں کسان کی طرف سے کٹتی ہے؛ پکی آڑھت میں تقسیم یا خریدار پر منتقل ہو سکتی ہے۔ پنجاب کا AMIS تقریباً 135 منڈیوں کے روزانہ ریٹ شائع کرتا ہے، اس لیے کسان اب دام جان کر آتے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

پاکستان میں عام آڑھت کی شرح کیا ہے؟

زیادہ تر منڈیوں میں کل فروخت کا 1.5%–2.5%، کٹوتیوں سے پہلے۔

کیا آڑھت اور مارکیٹ کمیٹی فیس ایک ہیں؟

نہیں۔ آڑھت آڑھتی کا کمیشن ہے؛ مارکیٹ کمیٹی فیس الگ سرکاری چارج ہے۔

آڑھت کے حساب میں غلطی سے کیسے بچیں؟

پکا کھاتہ میں شرح ایک بار سیٹ کریں — ہر لاٹ پر خودکار لاگو، کسان کو نظر، کوئی تنازعہ نہیں۔