کچا آڑھتی خالص کمیشن ایجنٹ ہوتا ہے — کسان اور خریدار کے درمیان سودا کرواتا اور آڑھت کماتا ہے — جبکہ پکا آڑھتی خود بھی لاٹ خرید کر منافع پر آگے بیچتا ہے۔ زیادہ تر پاکستانی منڈیاں کچی آڑھت کے ماڈل پر چلتی ہیں، جہاں آڑھتی مال کا مالک نہیں ہوتا۔

کچا آڑھتی اصل میں کیا کرتا ہے؟

کسان کی لاٹ لیتا ہے، بولی سے بیچتا ہے، خریدار سے وصول کرتا ہے، آڑھت و کٹوتیاں کاٹ کر کسان کو خالص رقم دیتا ہے۔ وہ کمیشن کماتا ہے، تجارتی منافع نہیں، اور مال کا مالک نہیں بنتا۔

پکا آڑھتی کیسے مختلف ہے؟

پکا آڑھتی لاٹ خود خرید کر بعد میں بیچ سکتا ہے اور سپریڈ کماتا ہے۔ اس کا مطلب وہ اسٹاک اور قیمت کا خطرہ اٹھاتا ہے — بیوپاری کے قریب۔

سیٹلمنٹ میں کیا فرق ہے؟

کچی سیٹلمنٹ میں خریدار کل رقم دیتا ہے، آڑھتی کٹوتیاں کاٹتا ہے، کسان کو خالص ملتا ہے — ایک پرچی پر دو طرفہ۔ پکی میں خرید اور فروخت دو الگ لین دین ہیں۔ پکا کھاتہ دونوں سپورٹ کرتا ہے؛ دیکھیں پکا کھاتہ آڑھتیوں کے لیے اور کچا/پکا آڑھتی۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

پاکستان میں کون سا ماڈل زیادہ عام ہے؟

کچی آڑھت (صرف کمیشن) کا ماڈل زیادہ تر منڈیوں میں غالب ہے۔

کیا پکا آڑھتی کو زیادہ سرمایہ چاہیے؟

جی ہاں — خود خریدنے کی وجہ سے سرمایہ پھنستا ہے اور قیمت کا خطرہ ہوتا ہے۔

کیا ایک کاروبار دونوں کر سکتا ہے؟

جی ہاں۔ اچھا کھاتہ دونوں کو الگ رکھتا ہے۔