Workflow

Phal (Fruit)·پھل

Roman Urdu: Phal / Phul

پھل سے مراد پھل منڈی میں بکنے والے موسمی پھل ہیں — آم، کینو/مالٹا، کیلا، سیب، کھجور اور خربوزے۔ پاکستانی پھل سخت موسمی سائیکل پر چلتا ہے: آم مئی–اگست (ملتان، میرپور خاص)، کینو دسمبر–مارچ (سرگودھا، بھلوال)، سیب ستمبر–نومبر (کوئٹہ، گلگت)، کھجور جون–ستمبر (خیرپور، سکھر)۔ پھل پیٹی یا فی درجن بکتا ہے، گریڈ A/B/C میں تقسیم ہوتا ہے، اور آف سیزن مال اکثر کولڈ سٹوریج سے گزرتا ہے۔

استعمال کی مثال

مثال: روزانہ منڈی کے کھاتے میں پھل کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے تاکہ پارٹی بیلنس اور سیٹلمنٹ واضح رہے۔

پھل کے بارے میں اکثر پوچھے گئے سوالات

پاکستان میں پھلوں کے بڑے سیزن کون سے ہیں؟+
آم مئی–اگست، کینو اور لیموں دسمبر–مارچ، سیب ستمبر–نومبر، اور کھجور جون–ستمبر۔ کیلا سندھ سے تقریباً سال بھر آتا ہے۔ ہر پھل کی منڈی اپنی فصل کے دوران مصروف ترین ہوتی ہے جب دام سب سے کم اور آمد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
پھل منڈی میں کیسے گریڈ اور قیمت لگتی ہے؟+
گریڈ سے — A/B/C — سائز، رنگ، پکنے اور خرابی کی بنیاد پر۔ گریڈ A آم یا کینو سب سے اونچا دام لیتا ہے؛ B اور C جوس یا مقامی فروخت کے لیے سستے بکتے ہیں۔ لاٹ فی پیٹی یا فی درجن لگتی ہے، اناج کی طرح فی من نہیں۔
پھل کے بیوپاری کے لیے کولڈ سٹوریج کیوں اہم ہے؟+
پھل کمرے کے درجہ حرارت پر چند دن میں خراب ہو جاتا ہے، اس لیے سیب، کینو اور کھجور کو آف سیزن میں اونچے دام پر بیچنے کے لیے کولڈ سٹوریج میں رکھا جاتا ہے۔ بیوپاری فی پیٹی فی ماہ کرایہ متوقع منافع کے مقابلے میں دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔

پکا کھاتہ میں پھل کیسے کام کرتا ہے

پکا کھاتہ نے پھل کو خودکار، شفاف اور تنازعہ سے پاک بنایا ہے۔

پکا کھاتہ پھل منڈی کے لیے

اپنی منڈی کا کھاتہ ڈیجیٹل بنائیں

آڑھت، بردانہ، لاٹ، گیٹ پاس — سب خودکار، اردو میں، آف لائن بھی۔